کوئی رسوا تو کوئی معتبر ہوتا ہی رہتا ہے
یہاں یہ کھیل پیار عمر بھر ہوتا ہی رہتا ہے
یہ دنیا ہے یہاں تم حادثوں سے دوستی کر لو
کہ ہر لمحہ یہاں زیر و زبر ہوتا ہی رہتا ہے
تصور بھی عجب شے ہے، تصور ہی کے شہپر پر
اگر غیرت سلامت ہے تو غربت کے بھی عالم میں
بڑی عزت سے مفلس کا گزر ہوتا ہی رہتا ہے
یہ انسانوں کی بستی ہے، یہاں انسان کو دھوکا
وہ چاہے یا نہ چاہے گا، مگر ہوتا ہی رہتا ہے
انور جلال پوری
No comments:
Post a Comment