Sunday, 18 December 2016

ناکام ہیں اثر سے دعائیں دعا سے ہم

ناکام ہیں اثر سے دعائیں دعا سے ہم
مجبور ہیں کہ لڑ نہیں سکتے خدا سے ہم
ہوں گے نہ منحرف کبھی عہدِ وفا سے ہم
چاہیں گے حشر میں بھی بتوں کو خدا سے ہم
چاہو گے تم نہ ہم کو، نہ چھوٹو گے ہم سے تم
مجبور تم جفا سے ہوئے ہو، وفا سے ہم
آتا نہیں نظر کوئی پہلو بچاؤ کا
کیونکر بچائیں دل ترے تیرِ ادا سے ہم
تم سے بگاڑ عشق میں ہونا عجب نہیں
انجام جانتے تھے یہی ابتدا سے ہم
الزام ان کے عشق کا احسنؔ غلط نہیں
نادم تمام عمر رہے اس خطا سے ہم

احسن مارہروی

No comments:

Post a Comment