Thursday, 8 December 2016

کچھ عجب شان سے لوگوں میں رہا کرتے تھے

کچھ عجب شان سے لوگوں میں رہا کرتے تھے
ہم خفا رہ کے بھی آپس میں ملا کرتے تھے
اتنی تہذیب رہ و رسم تو باقی تھی کہ اب
لاکھ رنجش سہی، وعدہ تو وفا کرتے تھے
اس نے پوچھا تھا کئی بار مگر کیا کہیۓ
ہم مزاجاً ہی پریشان رہا کرتے تھے
ختم تھا ہم پہ محبت کا تماشا، گویا 
روح اور جسم کو ہر روز جدا کرتے تھے
زندگی! ہم سے تِرے ناز اٹھاۓ نہ گئے
سانس لینے کی فقط رسم ادا کرتے تھے
ہم برس پڑتے تھے شاؔذ اپنی ہی تنہائی پر
ابر کی طرح کسی در سے اٹھا کرتے تھے

شاذ تمکنت

No comments:

Post a Comment