اب برقِ جہاں سوز ہی کچھ فیصلہ کر جائے
دنیا پہ قیامت جو گزرتی ہے گزر جائے
اللہ رے انسان کہ وہاں سے بھی گزر جائے
جبریلِ امیں کی بھی جہاں تک نہ نظر جائے
ہے ہے میری تقدیر کہ نقشِ قدم ان کا
اس شورش و شر کشمکشِ زیست میں اک دن
ڈرتا ہوں کہ انسان! تِری روح نہ مر جائے
کیسی صحر آئی کہ دعا مانگ رہا ہوں
پھر سے وہی شب آئے الہیٰ یہ سحر جائے
مسند سے اگر خود ہی اتر جائیں شہنشاہ
ممکن ہے کہ آیا ہوا طوفان اتر جائے
گردوں میں فرشتے ہیں زمیں پر ہیں زمیندار
اب جائے تو دریوزہ گر انسان کدھر جائے
دل کے لیے ہی کوئی نئی بات نہیں ہے
مر کر کبھی جی جائے تو جی کر کبھی مر جائے
دونوں ہیں وطن دار ارم واعظ و ساقی
اب کوئی بتاؤ! دلِ دیوانہ کدھر جائے
حیرت مجھے تصویر سے اندیشہ لگا ہے
آنکھوں سے کہیں شیشۂ دل میں نہ اتر جائے
حیرت بدایونی
No comments:
Post a Comment