ضروری ہے اگر کھونا ہمارا
کوئی دیکھے نہ پھر رونا ہمارا
وہ تکنا رات بھر تاروں کی جانب
وہ فرشِ خاک پر سونا ہمارا
کسی کو کیوں نظر آتے نہیں ہم
سمندر کو نہیں بھائے گا، لوگو
کنارے آبجو سونا ہمارا
نہ رہنے دے گا کچھ بھی پاس اپنے
اسیرِ بے دلی ہونا ہمارا
بہت کچھ ہو گیا، تبدیل لیکن
وہی ہم ہیں، وہی رونا ہمارا
شائستہ سحر
No comments:
Post a Comment