Sunday, 13 September 2020

ایسے ہو گی نہ میری وحشت کم

ایسے ہو گی نہ میری وحشت کم
بات کیجئے کہ ہو اذیت کم
تیری خاطر ادھار لے لوں کیا
زندگی کی اگر ہو مدت کم
پھر کوئی اور کام کر لیجئے
اس محبت میں گر ہے اجرت کم
اپنی نظروں سے ہو گئی اوجھل
ہائے، دیکھی کیوں تیری صورت کم
ایک ہی بار سانس رک جائے
اور ہو جائے اک مصیبت کم
ہو نیا روپ، تو دکھا دیجئے
ان دنوں ہو گئی ہے حیرت کم
چین سے ہم بھی سو ہی جائیں گے
درد، ہو جائے تیری شدت کم
خود سے نفرت بھی کر کے دیکھ لیا
ہو گئی کیا تِری محبت کم؟

شائستہ سحر

No comments:

Post a Comment