ایسے ہو گی نہ میری وحشت کم
بات کیجئے کہ ہو اذیت کم
تیری خاطر ادھار لے لوں کیا
زندگی کی اگر ہو مدت کم
پھر کوئی اور کام کر لیجئے
اپنی نظروں سے ہو گئی اوجھل
ہائے، دیکھی کیوں تیری صورت کم
ایک ہی بار سانس رک جائے
اور ہو جائے اک مصیبت کم
ہو نیا روپ، تو دکھا دیجئے
ان دنوں ہو گئی ہے حیرت کم
چین سے ہم بھی سو ہی جائیں گے
درد، ہو جائے تیری شدت کم
خود سے نفرت بھی کر کے دیکھ لیا
ہو گئی کیا تِری محبت کم؟
شائستہ سحر
No comments:
Post a Comment