Tuesday, 8 September 2020

حسن کی تیرے جس کو خبر ہو گئی

حسن کی تیرے جس کو خبر ہو گئی 
زندگی اس کی وقف نظر ہو گئی 
ان کی آئینہ پر جب نظر ہو گئی 
میری دنیا ادھر کی ادھر ہو گئی 
اب نہ وہ گل رہے اور نہ وہ گلستاں 
چاندنی چار دن کی مگر ہو گئی 
اس کی دنیا کا عالم ہی کچھ اور ہے 
جس کی دنیا تمہاری نظر ہوئی گئی 
مجھ کو اب سنگ در کی ضرورت نہیں 
جب کہ خود ہی جبیں سنگ در ہو گئی 
میرے سجدوں کا ان کو یقیں آ گیا 
بندگی اب مِری معتبر ہو گئی 
مِری مشق تصور کی دیکھو کشش 
ان کی تصویر پیش نظر ہو گئی 
کس کو اچھا کہیں کس کو سمجھیں برا 
ساری دنیا فریب نظر ہو گئی 
دیکھ کر ان کو افقرؔ دم واپسیں 
زندگی مِری بار دگر ہو گئی 

افقر موہانی وارثی

No comments:

Post a Comment