حسن کی تیرے جس کو خبر ہو گئی
زندگی اس کی وقف نظر ہو گئی
ان کی آئینہ پر جب نظر ہو گئی
میری دنیا ادھر کی ادھر ہو گئی
اب نہ وہ گل رہے اور نہ وہ گلستاں
اس کی دنیا کا عالم ہی کچھ اور ہے
جس کی دنیا تمہاری نظر ہوئی گئی
مجھ کو اب سنگ در کی ضرورت نہیں
جب کہ خود ہی جبیں سنگ در ہو گئی
میرے سجدوں کا ان کو یقیں آ گیا
بندگی اب مِری معتبر ہو گئی
مِری مشق تصور کی دیکھو کشش
ان کی تصویر پیش نظر ہو گئی
کس کو اچھا کہیں کس کو سمجھیں برا
ساری دنیا فریب نظر ہو گئی
دیکھ کر ان کو افقرؔ دم واپسیں
زندگی مِری بار دگر ہو گئی
افقر موہانی وارثی
No comments:
Post a Comment