Tuesday, 8 September 2020

کہوں کس طرح دم نہیں نہ رسا ہے

کہوں کس طرح دم نہیں نہ رسا ہے
گلِ صحرا یک آہ سے جل گیا ہے
مزا کر مزے میں میرا ذوق غم پا
میرا گریہ نمکیں ازل سے رہا ہے
لبِ خشک پر لطمہِ موج کیا خوب
نگاہ بوسۂ کشتی ناخدا ہے
خمار آ کہ شعر کہہ نہ سکا نادر
خدا ہے محبت، محبت خدا ہے

میکس بروس نادر

No comments:

Post a Comment