Tuesday, 15 September 2020

کیسے کہیں ہم پیار نے ہم کو کیا کیا کھیل دکھائے

فلمی گیت

کیسے کہیں ہم پیار نے ہم کو کیا کیا کھیل دکھائے
یوں شرمائی قسمت ہم سے، خود سے ہم شرمائے
کیسے کہیں ہم پیار نے ہم کو کیا کیا کھیل دکھائے

باغوں کو تو پت جھڑ لُوٹے، لُوٹا ہمیں بہار نے
دنیا مرتی موت سے لیکن، مارا ہم کو پیار نے
اپنا وہ حال ہے، بیچ سفر میں جیسے کوئی لُٹ جائے
کیسے کہیں ہم پیار نے ہم کو کیا کیا کھیل دکھائے

تم کیا جانو، کیا چاہا تھا، کیا لے کر آئے ہم
ٹُوٹے سپنے، گھائل نغمے، کچھ شعلے، کچھ شبنم
کتنا کچھ ہے پایا ہم نے، کہیں تو کہا نہ جائے
کیسے کہیں ہم پیار نے ہم کو کیا کیا کھیل دکھائے

ایسی بجی شہنائی گھر میں، اب تک سو نہ سکے ہم
اپنوں نے ہم کو اتنا ستایا، روئے تو رو نہ سکے ہم
اب تو کرو کچھ ایسا یارو، ہوش نہ ہم کو آئے
کیسے کہیں ہم پیار نے ہم کو کیا کیا کھیل دکھائے
یوں شرمائی قسمت ہم سے، خود سے ہم شرمائے

گوپال داس نیرج

No comments:

Post a Comment