زمینداروں سے قسمت اس طرح سے لڑ رہی ہے
پکی فصلوں پہ بارش آگ بن کے پڑ رہی ہے
یہ کھلتے پھول لوگوں کی توجہ کھینچتے ہیں
وگرنہ پیڑ کی اصلی حقیقت جڑ رہی ہے
کوئی آندھی چلے شاید تو ہم گر جائیں فوراً
وگرنہ سانس اک ترتیب سے ہی جھڑ رہی ہے
کئی خوش شکل چہرے مجھ کو گھورے جا رہے ہیں
مجھے ساری توجہ تجھ پہ کرنا پڑ رہی ہے
مبشر میو
No comments:
Post a Comment