کیوں بڑھے بات کہ تاویل کا پہلو نکلے
کیوں خدا کی کسی تمثیل کا پہلو نکلے
کچھ ترے بھائی کو انصاف بھی کرنا پڑے گا
تُو بھی مت سوچ کہ قابیل کا پہلو نکلے
اب تو درویش کوئی آ کے اگر مانگے دعا
تب بھی شاید ہی ابابیل کا پہلو نکلے
کوئی الجھن ہو میں کرتا ہوں مسلسل ترا ذکر
تاکہ مجھ واسطے قندیل کا پہلو نکلے
زندگانی مری گردش میں گزر جائے اور
کیا ہو آخر میں جو تطویل کا پہلو نکلے
اپنے جذبات بیاں کرنا کوئی سہل نہیں
سخن آرائی سے تسہیل کا پہلو نکلے
جب محبت میں صداقت ہی نہیں ہے تو عمیر
غیر معقول ہے تکمیل کا پہلو نکلے
عمیر احمد
No comments:
Post a Comment