خدا کو میسج
سفید وقت سے بھرے پڑے ہوئے مکان ہیں
چراغ ہیں نہ باغ ہیں
نہ دوستی نہ روشنی
گٹار ہے نہ گیت ہیں
نہ پھول ہیں، فضول ہیں
جگہ جگہ رکھی ہوئی ہے پتھروں کی مورتی
رگوں میں ریت ہے، زباں پہ گالیاں بھری ہوئیں
چہار سمت شور ہے، یہ پتھروں کا دور ہے
ناکردہ جرم جن کے سر پہ آ گئے، وہ لوگ بھی
پڑے ہوئے ہیں بجریوں کی مثل ایک کونے میں
بڑے ادب سے السلام اے خدا
جب ان تمام پتھروں کے گندے کام دیکھ لے
تو پھر شکستہ حال بکھری بجریوں کا حال اٹھا
خدا ہماری کال اٹھا
احمر فاروقی
No comments:
Post a Comment