سمندر ہو کے لب پہ تشنگی ہے
سنا ہے نام اس کا زندگی ہے
اکیلی بیٹھ کے روتی ہوں جب بھی
تمہاری یاد آنسو پونچھتی ہے
اسے بچھڑے ہوئے ہے گیارواں دن
مسلسل فون کی چپ کاٹتی ہے
ہمارا ساتھ شاید تھا یہیں تک
تری یہ بات مجھ کو کھا گئی ہے
میں پہلے اس طرح جلتی نہیں تھی
تمہارے ہجر سے یہ روشنی ہے
اسے کہہ دو ملی ہیں ساری خوشیاں
مگر یہ آنکھ تجھ کو ڈھونڈتی ہے
اسے کہنا پرندے اڑ گئے ہیں
تمہاری عافیہ بھی رو رہی ہے
اقراء عافیہ
No comments:
Post a Comment