کوئی بھی سامان نہیں ہے اب میری حیرانی کو
آتشدان میں پھینک دیا ہے اک خط لکھ کر پانی کو
ان سے پوچھو جن پر گزرے لمحے اصل قیامت کے
لوگ تو ہجرت کہہ دیتے ہیں ہر اک نقل مکانی کو
کرداروں کی کھیپ بلا کر کیا تصویر بناؤ گے
ایک کہانی سے ڈھانپو گے کس کس کی عریانی کو
جس لمحے سونپے تھے ہم نے خواب بلوریں آنکھوں کو
کوس رہے ہیں اب تک ہم اس لمحے کی نادانی کو
گھور رہا ہے کب سے میرا دل اک خالی سا پنجرہ
زنداں سے آواز آتی ہے "آ جاؤ" زندانی کو
جس چشمے سے پانی پینا اس کا سودا کر دینا
غداری کہتے ہیں بھائی ایسی بے ایمانی کو
شمامہ افق
No comments:
Post a Comment