Thursday, 1 April 2021

بدن سراب نہ دریائے جاں سے ملتا ہے

 بدن سراب نہ دریائے جاں سے ملتا ہے

تو پھر یہ خواب کنارہ کہاں سے ملتا ہے

یہ دھوپ چھاؤں سلامت رہے کہ تیرا سراغ

ہمیں تو سایۂ ابرِ رواں سے ملتا ہے

ہم اہلِ درد جہاں بھی ہیں سلسلہ سب کا

تمہارے شہر کے آشفتگاں سے ملتا ہے

جہاں سے کچھ نہ ملے تو بھی فائدے ہیں بہت

ہمیں یہ نقد اسی آستاں سے ملتا ہے

فضا ہی ساری ہوئی سرخرو تو حیرت کیا

کہ آج رنگِ ہوا گُل رُخاں سے ملتا ہے

بچھڑ کے خاک ہوئے ہم تو کیا ذرا دیکھو

غبار جا کے اسی کارواں سے ملتا ہے


احمد محفوظ

No comments:

Post a Comment