Sunday, 11 April 2021

تعلق اس طرح توڑا نہیں کرتے

 درخواست


تعلق اس طرح توڑا نہیں کرتے

کہ پھر سے جوڑنا دشوار ہو جائے

حیات اک زہر میں ڈوبی تلوار ہو جائے

محبت اس طرح چھوڑا نہیں کرتے

خفا ہونے کی رسمیں ہیں

بگڑنے کے طریقے ہیں

رواج و رسم، ترکِ دوستی پر سو کتابیں ہیں

رواداری/وضعداری کا ہرگز راستہ چھوڑا نہیں کرتے

تعلق اس طرح توڑا نہیں کرتے

کبھی بلبل گلوں کی خاموشی سے روٹھ جاتی ہے

پر اگلے سال سب کچھ بھول کر پھر لوٹ آتی ہے

سبھی بھنوروں کو گُل ہرجائی کہتے ہیں

مگر تھوڑی سی ضد کے بعد بندھن کھول دیتے ہیں

کبھی پودوں سے پانی دور ہو جائے

تو ہمسایہ درختوں کی جڑوں کے ساتھ پیغامات جاتے ہیں

محبت میں سبھی ایک دوسرے کو آزماتے ہیں

مگر ایسا نہیں کرتے

کہ امید کا امکان مٹ جائے

کہاں تک کھینچتی ہے ڈور

یہ اندازہ رکھتے ہیں

ہمیشہ چاردیواری میں دروازہ رکھتے ہیں

جدائی مستقل ہو جائے تو یہ زندگی زندان ہو جائے

اگر خوشبو ہواؤں سے مراسم منقطع کر دے

تو خود میں ڈوب کر بے جان ہو جائے

سنو

جینے سے منہ موڑا نہیں کرتے

محبت اس طرح چھوڑا نہیں کرتے


شاہنواز زیدی

No comments:

Post a Comment