Tuesday, 20 April 2021

وہ تھے اپنے تو ہر اک دور تھا ہو کر اپنا

وہ تھے اپنے تو ہر اک دور تھا ہو کر اپنا

اب نہ تقدیر، نہ قسمت، نہ مقدر اپنا

میکدہ اپنا ہے مے اپنی ہے ساغر اپنا

یہ الگ بات کہ حق ہے نہ کسی پر اپنا

کبھی گرداب تھا موج اپنی تھی گوہر اپنا

اب ندی اپنی، نہ دریا، نہ سمندر اپنا

بوریا رہتا سلامت نہ تو بستر اپنا

وہ تو یہ کہیے کہ تکیہ تھا خدا پر اپنا

نہ سکوں بھیڑ میں دل کو نہ اکیلے میں قرار

کیا خبر چاہتا کیا ہے دل مضطر اپنا

کیوں تڑپ اٹھتے نہ لوگوں کے تڑپ اٹھنے پر

وقت کے دل کی طرح دل نہیں پتھر اپنا

آپ کا حسن سلامت ہے خود آئینہ خراب

آپ شرمندہ نہ ہوں دیکھ کے منظر اپنا

وقت کرتا رہا تدبیر برابر اپنی

کام کرتی رہی تقدیر برابر اپنا

سرخرو کیوں نہ گلستاں نظر آئے گا نصیب

جذب ہے خون ہر اک پھول کے اندر اپنا


داؤد نصیب

No comments:

Post a Comment