Sunday, 18 April 2021

آیا ہے خیال بے وفائی

 آیا ہے خیالِ بے وفائی

کیوں جی وہی گفتگو پھر آئی

او بُت نہ سُنے گا کوئی میری

کیا تیری ہی ہو گئی خدائی

روکو، روکو، زبان روکو

دینے نہ لگو کہیں دُہائی

صحرا میں ہوئی گُہر فشانی

کام آئی مِری برہنہ پائی

چاہا لیکن نہ بچ سکے ہم

آخر تیغِ نِگاہ کھائی

توڑا کانٹوں نے آبلوں کو

برباد ہوئی مِری کمائی

بوسہ ہم آج مانگتے ہیں

کرتے ہیں قسمت آزمائی

توبہ شکنی شباب میں کر

کب تک اے جان پارسائی

کاٹا دن تو تڑپ تڑپ کر

آفت کی رات سر پر آئی

رخصت ہے نسیمؔ جلد دیکھو

کر لو گر ہو سکے بھلائی


نسیم دہلوی

No comments:

Post a Comment