رخت سفر ہے
یادوں کا ساتھ چھوڑ دو
اس سے منہ موڑ لو
دیکھو کوئی واپسی
کا وعدہ نہ کرنا
اب اس شہر میں جانے کب
ہو آنا
کسی کی آنکھوں میں
انتظار کی جوت جلا کے
مت جانا
یہ چراغ بُجھنے ہی دو
محبت کو نرمی سے
چھوڑ ہی دو
اچھا ہے درد اس کو
اک بار ہی سہہ لینے دو
محبت سے رخصت لے ہی لو
پھر حاضری نہیں ہو گی
اب سب یادوں کو پیچھے
چھوڑ کے جانا
الوداع کہہ کے جانا
تم کو قسم ہے
اب لوٹ کے مت آنا
نگہت عبداللہ
No comments:
Post a Comment