Thursday, 22 April 2021

رخت سفر ہے یادوں کا ساتھ چھوڑ دو

 رخت سفر ہے

یادوں کا ساتھ چھوڑ دو

اس سے منہ موڑ لو

دیکھو کوئی واپسی

کا وعدہ نہ کرنا

اب اس شہر میں جانے کب

ہو آنا 

کسی کی آنکھوں میں

انتظار کی جوت جلا کے

مت جانا

یہ چراغ بُجھنے ہی دو

محبت کو نرمی سے

چھوڑ ہی دو

اچھا ہے درد اس کو

اک بار ہی سہہ لینے دو

محبت سے رخصت لے ہی لو

پھر حاضری نہیں ہو گی

اب سب یادوں کو پیچھے

چھوڑ کے جانا

الوداع کہہ کے جانا

تم کو قسم ہے

اب لوٹ کے مت آنا


نگہت عبداللہ

No comments:

Post a Comment