مٹی کا پُتلا
سب کہتے ہیں پاگل ہے وہ
اپنے گھر کے کونے میں
دنیا سے بے گانی ہو کر
چکنی مٹی کو گھول کے پگلی
اک پُتلا سا بناتی ہے
اس کے چہرے کی تختی کو
معصوم ہونٹوں سے سجاتی ہے
پھر ڈھیروں باتیں کرتی ہے اس سے
آخر میں اپنے اشکوں کو
آنکھوں میں اس کے لگاتی ہے
ممتا کی ماری پاگل عورت
اس مٹی کے پتلے کو
بیٹا کہہ کر بلاتی ہے
ثمرین افتخار
No comments:
Post a Comment