سرخرو لکھا جائے
تھامتے قلم لیکن
کانپتے سے ہاتھوں کو
بے شمار جھُریوں میں
ادھ چھُپے سے چہرے کو
سیاہ گھٹا سے بالوں میں
پھیلتی سی چاندی کو
اور ناک پہ سجی ہے جو
بے بسی کی عینک کو
دیکھ کر خیال آیا
گو کہ اس مسافت میں
ہم دور تک نکل آئے
اور کتابِ زیست کے بھی چند اوراق باقی ہیں
تو کیوں ناں آج اٹھ کے ہم
ان کو پھر سے دُہرا لیں
کیا عجب زمانہ ہے
خوبصورت لمحوں کا
دلنشیں فسانہ ہے
اور یہ کتابِ زیست کا
کچھ آخری سا حصہ ہے
سوچ گہری آنکھوں میں
زرد زرد چہرہ ہے
ضبط کے سلیقے ہیں، آنسوؤں پہ پہرا ہے
سر نِگوں سراپا ہے
دلنشیں جوانی پہ ڈولتا بُڑھاپا ہے
سب عکس دُھندلے ہیں
زندگی کی راہوں میں
جو کھویا ہے یا پایا ہے
سب حساب لکھا ہے
ذکر ہر حقیقت کا، ہر سراب لکھا ہے
سوچتی ہوں اب کتابِ زیست کے حوالے سے
جو اوراق باقی ہیں
ان پہ آنے والا کل
اب نہ جانے کیا لکھے
ہاں مگر اک خواہش ہے
اس کتابِ زیست کا
باب آخری جو ہے
سبز روشنائی ہے
سرخرو“ لکھا جائے”
آسمان والے سے داد کی سند پائے
نسرین سحرش
No comments:
Post a Comment