Wednesday, 14 April 2021

یہ مانا زندگی میں غم بہت ہیں

 یہ مانا زندگی میں غم بہت ہیں

ہنسے بھی زندگی میں ہم بہت ہیں

تِری زلفوں کو کیا سلجھاؤں اے دوست

مِری راہوں میں پیچ و خم بہت ہیں

نہیں ہے منحصر کچھ فصلِ گُل پر

جنوں کے اور بھی موسم بہت ہیں

غبار آلودہ چہروں پر نہ جانا

انہیں میں کیقباد و جَم بہت ہیں

مجھے کچھ ساز ہے نشتر سے ورنہ

مِرے زخموں کے یاں مرہم بہت ہیں

قفس یہ جان کر توڑا تھا میں نے

قفس کو توڑ کر بھی غم بہت ہیں

کروں کیا چارہ ان آنکھوں کا میکش

کہ ان کے سامنے پُر نم بہت ہیں


میکش اکبر آبادی

No comments:

Post a Comment