تجھ سے راہ و رسم بڑھا کر دیکھیں گے
پیار میں اپنا آپ مٹا کر دیکھیں گے
تیری دعا میں شامل کر کے اپنی دعا
تیرے ساتھ ہم ہاتھ اٹھا کر دیکھیں گے
ختم اندھیرے ہو جائیں یا ختم نہ ہوں
اپنی طرف سے دیپ جلا کر دیکھیں گے
محفل میں کوئی تو ہم کو سمجھے گا
اپنے دل کا حالِ سنا کر دیکھیں گے
موسم کی ہر بات سنیں گے دل کے ساتھ
روٹھے ہوؤں کو آج منا کر دیکھیں گے
غم کے نقش مٹا دیں گے کچھ خوشیوں سے
کوئی اجڑا شہر بسا کر دیکھیں گے
ثناء احمد
No comments:
Post a Comment