Thursday, 22 April 2021

یوں بھی جب تک غم سے مر نہیں جاتا میں

 یوں بھی جب تک غم سے مر نہیں جاتا میں

رات گئے تک لوٹ کے گھر نہیں جاتا میں

دیکھتا رہتا ہوں تجھ کو اس لمحے تک

جب تک سارا درد سے بھر نہیں جاتا میں

اتنی دیر سمیٹوں سارے دُکھ تیرے

جتنی دیر اے دوست بکھر نہیں جاتا میں

تیرے غم کا بوجھ اُٹھاؤں گا جب تک

کوہِ غم سے پار اُتر نہیں جاتا میں

موت سے آگے تک کے منظر دیکھے ہیں

تنہائی سے یوں ہی ڈر نہیں جاتا میں

نعیم اس سے میں اپنے سارے دُکھ کہنے

سوچتا تو رہتا ہوں، پر نہیں جاتا میں


نعیم گیلانی

No comments:

Post a Comment