یوں بھی جب تک غم سے مر نہیں جاتا میں
رات گئے تک لوٹ کے گھر نہیں جاتا میں
دیکھتا رہتا ہوں تجھ کو اس لمحے تک
جب تک سارا درد سے بھر نہیں جاتا میں
اتنی دیر سمیٹوں سارے دُکھ تیرے
جتنی دیر اے دوست بکھر نہیں جاتا میں
تیرے غم کا بوجھ اُٹھاؤں گا جب تک
کوہِ غم سے پار اُتر نہیں جاتا میں
موت سے آگے تک کے منظر دیکھے ہیں
تنہائی سے یوں ہی ڈر نہیں جاتا میں
نعیم اس سے میں اپنے سارے دُکھ کہنے
سوچتا تو رہتا ہوں، پر نہیں جاتا میں
نعیم گیلانی
No comments:
Post a Comment