سچ کی راہ پر ڈٹی ہوئی ہوں
غبارِ ملامت سے اٹی ہوئی ہوں
مجھے توڑنے والا جانتا ہے
میں کتنے حصوں میں بٹی ہوئی ہوں
رگِ جاں سے جو قریب تر ہے
اس سے ہی کٹی ہوئی ہوں
مٹی یہ راز جانتی ہے
میں کیونکر مٹی ہوئی ہوں
دل سے اٹھتا دھواں کہ رہا ہے
سوختہ تمناؤں کی بھٹی ہوئی ہوں
کنول بہزاد
No comments:
Post a Comment