Sunday, 18 July 2021

دل ہی سہی سمجھانے والا

 دل ہی سہی سمجھانے والا

کوئی تو ہے غم کھانے والا

دل کے کیا کیا طور تھے لیکن

پھول تھا اک مرجھانے والا

ہجر کی شب ہے اور مرا دل

شام ہی سے گھبرانے والا

ڈوب چلے تارے بھی اب تو

کب آئے گا آنے والا

دل کی لگی دل والا جانے

کیا سمجھے سمجھانے والا

روئیے لاکھ ذکاؔ اب دل کو

کب آیا ہے جانے والا


ذکا صدیقی

No comments:

Post a Comment