Sunday, 18 July 2021

سدا کے ساتھی رہیں گے ہم تم

 وفا میں ساتھی رہیں گے ہم تم


تمہیں میں آنکھوں کا اشک کہہ دوں

مگر یہ ڈر ہے کہ اشک آنکھوں سے بہہ نہ جائیں

میں پھول بھی گر تمہیں کہوں تو

تو اس کو آخر بکھرنا ہو گا

تمہیں میں اپنا جو دل کہوں گی

کہ آنکھ کا میں کہوں گی کاجل

یہ ڈر رہے گا کہ دل ہی میرا نہ ٹوٹ جائے

کہ میری آنکھوں سے تیرا کاجل نہ روٹھ جائے

میں سوچتی ہوں کہ کیا کہوں اب

کوئی تو ایسا ہو استعارا جو میری خواہش بیان کر دے

سنو

یہ سوچا ہے روح کہہ دوں

کہ جسم تو ہیں فنا کا ایندھن

کہ روح کو تو فنا نہیں ہے

کبھی ہمارا بدن مَرے گا

تو روحیں ان سے نکل کے اک دوسرے سے آ کر گلے ملیں گی

سدا کے ساتھی رہیں گے ہم تم

وفا میں ساتھی رہیں گے ہم تم


فاطمہ رضوی

No comments:

Post a Comment