وفا میں ساتھی رہیں گے ہم تم
تمہیں میں آنکھوں کا اشک کہہ دوں
مگر یہ ڈر ہے کہ اشک آنکھوں سے بہہ نہ جائیں
میں پھول بھی گر تمہیں کہوں تو
تو اس کو آخر بکھرنا ہو گا
تمہیں میں اپنا جو دل کہوں گی
کہ آنکھ کا میں کہوں گی کاجل
یہ ڈر رہے گا کہ دل ہی میرا نہ ٹوٹ جائے
کہ میری آنکھوں سے تیرا کاجل نہ روٹھ جائے
میں سوچتی ہوں کہ کیا کہوں اب
کوئی تو ایسا ہو استعارا جو میری خواہش بیان کر دے
سنو
یہ سوچا ہے روح کہہ دوں
کہ جسم تو ہیں فنا کا ایندھن
کہ روح کو تو فنا نہیں ہے
کبھی ہمارا بدن مَرے گا
تو روحیں ان سے نکل کے اک دوسرے سے آ کر گلے ملیں گی
سدا کے ساتھی رہیں گے ہم تم
وفا میں ساتھی رہیں گے ہم تم
فاطمہ رضوی
No comments:
Post a Comment