کبھی کبھی مجھے لگتا ہے
کبھی کبھی مجھے لگتا ہے
جیسے میرے دُکھوں کا سایہ
تمام وادیوں اور پہاڑوں کو ڈھانپ لے گا
اور میری آہیں ہواؤں کے ساتھ ہر آنگن میں
سرگوشیاں کریں گی
اور میرے آنسو تمام دریاؤں نہروں کو خشک کر دیں گے
اور میری آنکھیں تتلیاں بن کر
ان خوابوں کو ڈھونڈیں گی جو نہ جانے کس نے چُرا لیے ہیں
اور میرے پاؤں ایک نہ ختم ہونے والے
انجانے سفر پر چل پڑیں گے
کبھی کبھی مجھے لگتا ہے
نجمہ منصور
No comments:
Post a Comment