Saturday, 17 July 2021

کبھی کبھی مجھے لگتا ہے جیسے میرے دکھوں کا سایہ

 کبھی کبھی مجھے لگتا ہے


کبھی کبھی مجھے لگتا ہے

جیسے میرے دُکھوں کا سایہ

تمام وادیوں اور پہاڑوں کو ڈھانپ لے گا

اور میری آہیں ہواؤں کے ساتھ ہر آنگن میں

سرگوشیاں کریں گی

اور میرے آنسو تمام دریاؤں نہروں کو خشک کر دیں گے

اور میری آنکھیں تتلیاں بن کر

ان خوابوں کو ڈھونڈیں گی جو نہ جانے کس نے چُرا لیے ہیں

اور میرے پاؤں ایک نہ ختم ہونے والے

انجانے سفر پر چل پڑیں گے

کبھی کبھی مجھے لگتا ہے


نجمہ منصور

No comments:

Post a Comment