Saturday, 17 July 2021

چلتے چلتے چلے آئے ہیں پریشانی میں

 چلتے چلتے چلے آئے ہیں پریشانی میں

خواب تو دب چکے اس کوچے کی ویرانی میں

توڑ کر پاؤں پڑے ہیں کہ وہ ہمت نہ رہی

اڑتے بادل تھے کبھی چاک گریبانی میں

ہجر کی راہ میں چلتے رہے گرتے پڑتے

ساتھ کچھ بھی نہ لیا بے سر و سامانی میں

اس شہنشاہ کو میں کیسے شہنشاہ کہوں

سرحدیں ٹوٹتی ہوں جس کی جہاں بانی میں

پہنچے منزل پہ تو حاصل تھا فقط یاس و ہراس

عمر اک بیت گئی سلسلہ جنبانی میں

اس کے جانے پہ یہ احساس ہوا ہے شاہد

وہ جزیرہ تھا مِرا دُکھ سے بھرے پانی میں


صدیق شاہد

No comments:

Post a Comment