فلک کا کینوس چھوٹا بہت ہے
مِرے رنگوں میں یہ جھگڑا بہت ہے
یہ مٹی کیوں نہیں بھرتی، چٹختی
بدن کیا چاک پر گُھوما بہت ہے
تجھے صدیاں لگیں گی جاتے جاتے
میں چاہوں تو مجھے لمحہ بہت ہے
یہ دریا رات میں صحرا لگے گا
مجھے یہ وہم یہ خدشہ بہت ہے
کبوتر ایک تھا، گنبد کئی تھے
سو تپتی دھوپ میں بھاگا بہت ہے
مِرے چہرے کی اس بد صورتی پر
تِری نظروں کا یوں بہنا بہت ہے
شفق، بادل، گلابی شام، ہم تم
یہ منظر آنچ پر رکھا بہت ہے
مِری غزلوں کے ماتھے پر ہمیشہ
مِرے ابو! تیرا بوسہ بہت ہے
قندیل بدر
No comments:
Post a Comment