عرصہ ہوا محبت پر غزل نہیں ہوئی
تمہارے بعد مجھ سے یہ حرکت نہیں ہوئی
میں شاعر ہوں غزلوں کا لکھا کھاتا ہوں
فاقوں کے دن ہیں رزق میں برکت نہیں ہوئی
خِزاں کے موسموں میں سب پرندے بڑھ گئے آگے
ہائے وہ ایک شجر، جس سے ہجرت نہیں ہوئی
جو چھوڑ کر گئے وہ دل بدر بھی ہوں
مذہبِ عشق میں ایسی کوئی بِدعت نہیں ہوئی
ابھی تو بچھڑے ہیں مریں گے کچھ دنوں کے بعد
اس سانحہ کو اتنی کوئی مدت نہیں ہوئی
ہجر کاٹیں گے تلاشیں گے کوئی توجیح
ہم پر تمام واصف ابھی حُجت نہیں ہوئی
واصف اسلم
No comments:
Post a Comment