Tuesday, 20 July 2021

عرصہ ہوا محبت پر غزل نہیں ہوئی

 عرصہ ہوا محبت پر غزل نہیں ہوئی

تمہارے بعد مجھ سے یہ حرکت نہیں ہوئی

میں شاعر ہوں غزلوں کا لکھا کھاتا ہوں

فاقوں کے دن ہیں رزق میں برکت نہیں ہوئی

خِزاں کے موسموں میں سب پرندے بڑھ گئے آگے

ہائے وہ ایک شجر، جس سے ہجرت نہیں ہوئی

جو چھوڑ کر گئے وہ دل بدر بھی ہوں

مذہبِ عشق میں ایسی کوئی بِدعت نہیں ہوئی

ابھی تو بچھڑے ہیں مریں گے کچھ دنوں کے بعد

اس سانحہ کو اتنی کوئی مدت نہیں ہوئی

ہجر کاٹیں گے تلاشیں گے کوئی توجیح

ہم پر تمام واصف ابھی حُجت نہیں ہوئی


واصف اسلم

No comments:

Post a Comment