اپنے انجام تک داستاں لے گیا
بات کو وہ کہاں سے کہاں لے گیا
اس نے پیروں سے میرے زمیں کھینچ لی
میں سمجھتا رہا آسماں لے گیا
اس لیے تجھ سے ہم دل نہیں مانگتے
تو بہانہ کرے گا فلاں لے گیا
خواب سارے مِرے سامنے جل گئے
میں بھی سینے میں بھر کر دھواں لے گیا
ایک پتھر نے خود کو ستارہ کہا
اپنے ہمراہ پھر کہکشاں لے گیا
یار سورج کا بے کار ٹکڑا تھا وہ
تو سمجھ کر جسے سائباں لے گیا
ایسے الٹا ہے کشکول درویش نے
وہ مِری فکرِ سود و زیاں لے گیا
اک شکایت ہے گزرے ہوئے وقت سے
وہ مِری صحبتِ دوستاں لے گیا
آتش و آب کو یوں ملایا حسن
میں سمندر میں آتشِ فشاں لے گیا
احتشام حسن
No comments:
Post a Comment