Tuesday, 20 July 2021

اپنے انجام تک داستاں لے گیا

 اپنے انجام تک داستاں لے گیا

بات کو وہ کہاں سے کہاں لے گیا

اس نے پیروں سے میرے زمیں کھینچ لی

میں سمجھتا رہا آسماں لے گیا

اس لیے تجھ سے ہم دل نہیں مانگتے

تو بہانہ کرے گا فلاں لے گیا

خواب سارے مِرے سامنے جل گئے

میں بھی سینے میں بھر کر دھواں لے گیا

ایک پتھر نے خود کو ستارہ کہا

اپنے ہمراہ پھر کہکشاں لے گیا

یار سورج کا بے کار ٹکڑا تھا وہ

تو سمجھ کر جسے سائباں لے گیا

ایسے الٹا ہے کشکول درویش نے

وہ مِری فکرِ سود و زیاں لے گیا

اک شکایت ہے گزرے ہوئے وقت سے

وہ مِری صحبتِ دوستاں لے گیا

آتش و آب کو یوں ملایا حسن

میں سمندر میں آتشِ فشاں لے گیا


احتشام حسن

No comments:

Post a Comment