جھیل کر دُکھ مجھے جینے کا قرینہ آیا
نہ جبیں پر شِکن اُبھری نہ پسینہ آیا
یہاں کتنے الفاظ و تراکیب تراشے میں نے
دوستوں گُفتگو کا نہ سلیقہ نہ قرینہ آیا
مُدتوں میں نے کیا ہے دلِ صد چاک رفُو
تب کہیں جا کے مجھے زخم کا سینہ آیا
مجھ کو ہونا پڑا ممنون کرم موجوں کا
کتنی مُشکل سے کنارے پہ سفینہ آیا
میں نے شکوہ نہ کیا تیری جفاؤں کا کبھی
صاف دل تھا کہ میرے دل میں نہ کینہ آیا
میں نے وہ راز حقیقت کبھی افشاں نہ کیا
جو میرے پاس ساگر سینہ بہ سینہ آیا
ابوبکر اثر انصاری
No comments:
Post a Comment