خزاں نے ستایا نہ خاروں نے لوٹا
گلوں نے دئیے دکھ بہاروں نے لوٹا
فلاحی ریاست کا نقشہ دکھا کر
غریبوں کو سرمایہ کاروں نے لوٹا
جو اسلام کے نام پر چل رہے تھے
مزا اُن سیاسی اداروں نے لوٹا
کڑے وقت پر کام آنا تھا جن کو
وطن کو انہیں جاں نثاروں نے لوٹا
تجھے قاضئ شہر کیسے بتاؤں
مِرا گھر مِرے پہرہ داروں نے لوٹا
ظاہر تھے رہبر، پس پردہ رہزن
وطن کو انہیں جاں نثاروں نے لُوٹا
جو امداد طوفاں کے ماروں کو آئی
اسے خوب تقسیم کاروں نے لوٹا
حقیقت تو یہ ہے کہ میرے وطن کو
وطن دوست تخریب کاروں نے لُوٹا
تلاطم میں پہلے ہی جو لُٹ چکے تھے
اے زمانا انہیں پھر کناروں نے لوٹا
تلاطم میں پہلے ہی جو لٹ چکے تھے
اے رومی انہیں پھر کناروں نے لوٹا
رومانہ رومی
No comments:
Post a Comment