Sunday, 18 July 2021

خزاں نے ستایا نہ خاروں نے لوٹا

 خزاں نے ستایا نہ خاروں نے لوٹا

گلوں نے دئیے دکھ بہاروں نے لوٹا

فلاحی ریاست کا نقشہ دکھا کر

غریبوں کو سرمایہ کاروں نے لوٹا

جو اسلام کے نام پر چل رہے تھے

مزا اُن سیاسی اداروں نے لوٹا

کڑے وقت پر کام آنا تھا جن کو

وطن کو انہیں جاں نثاروں نے لوٹا

تجھے قاضئ شہر کیسے بتاؤں

مِرا گھر مِرے پہرہ داروں نے لوٹا

ظاہر تھے رہبر، پس پردہ رہزن

وطن کو انہیں جاں نثاروں نے لُوٹا

جو امداد طوفاں کے ماروں کو آئی

اسے خوب تقسیم کاروں نے لوٹا

حقیقت تو یہ ہے کہ میرے وطن کو

وطن دوست تخریب کاروں نے لُوٹا

تلاطم میں پہلے ہی جو لُٹ چکے تھے

اے زمانا انہیں پھر کناروں نے لوٹا

تلاطم میں پہلے ہی جو لٹ چکے تھے 

اے رومی انہیں پھر کناروں نے لوٹا 


رومانہ رومی

No comments:

Post a Comment