ویسے تو انسان خدا کا خاص خلیفہ بنتا ہے
لیکن جو حالات ہیں اس کے ان پر رونا بنتا ہے
ہم بھی تیرے ساتھ کھڑے ہیں سبز رُتوں کے منظر میں
پھول اور کانٹے ساتھ رہیں تو پھر باغیچہ بنتا ہے
کتنی تہذیبیں مٹتی ہیں پھر بنتی ہے اک تہذیب
کتنی نسلوں کی محنت سے ایک رویّہ بنتا ہے
میں کہتا ہوں قریہ قریہ ڈھونڈ کے ملتا ہے اک شخص
میں کہتا ہوں دریا دریا مل کر قطرہ بنتا ہے
سایہ کیا ہمزاد بھی ایسے وقت میں ساتھ نہیں دیتا
چھوڑ کے جانے والے تیرا چھوڑ کے جانا بنتا ہے
ہر موقع پر پیٹھ کے پیچھے خنجر گھونپنے والا شخص
سامنے جب آ جاتا ہے تو کتنا اچھا بنتا ہے
افتخار حیدر
No comments:
Post a Comment