آج سودائے محبت کی یہ ارزانی ہے
کام بے کار جوانوں کا غزل خوانی ہے
غم کی تکمیل کا سامان ہوا ہے پیدا
لائق فخر مِری بے سر و سامانی ہے
سنگ و آہن تو بنے آئینے ان کی خاطر
دل نہ آئینہ بنا سخت یہ حیرانی ہے
فیصلہ دل کا محبت میں ہے رہبر اپنا
فکر کیا منزلِ جاناں اگر انجانی ہے
وہ کریں یا نہ کریں اپنی جفا سے توبہ
میرے دل کو مگر احساسِ پشیمانی ہے
ہینسن ریحانی
No comments:
Post a Comment