Tuesday, 6 July 2021

آج سودائے محبت کی یہ ارزانی ہے

 آج سودائے محبت کی یہ ارزانی ہے

کام بے کار جوانوں کا غزل خوانی ہے

غم کی تکمیل کا سامان ہوا ہے پیدا

لائق فخر مِری بے سر و سامانی ہے

سنگ و آہن تو بنے آئینے ان کی خاطر

دل نہ آئینہ بنا سخت یہ حیرانی ہے

فیصلہ دل کا محبت میں ہے رہبر اپنا

فکر کیا منزلِ جاناں اگر انجانی ہے

وہ کریں یا نہ کریں اپنی جفا سے توبہ

میرے دل کو مگر احساسِ پشیمانی ہے


ہینسن ریحانی

No comments:

Post a Comment