Tuesday, 6 July 2021

پڑھ رہا ہوں نصاب ہو جیسے

 پڑھ رہا ہوں نصاب ہو جیسے

اس کا چہرہ کتاب ہو جیسے

یوں بسر کر رہا ہوں دنیا میں

زندگانی عذاب ہو جیسے

شاخِ قامت پہ وہ حسیں چہرہ

ایک تازہ گلاب ہو جیسے

یوں وہ رہتا ہے میری آنکھوں میں

میری آنکھوں کا خواب ہو جیسے

وہ مِرے بخت کے خزینے میں

گوہرِ لا جواب ہو جیسے

اس کی ہستی کتابِ ہستی کا

اک حسیں انتساب ہو جیسے

زہر آلام دل کے ساغر میں

اک پرانی شراب ہو جیسے

جھوٹ اب بولتے ہیں لوگ ایسے

یہ بھی کارِ ثواب ہو جیسے

ریگِ دشتِ خیال میں شاہد

یاد اس کی سراب ہو جیسے


حفیظ شاہد

No comments:

Post a Comment