Monday, 19 July 2021

پہلے کچھ دن وفا ہوا تھا کوئی

 پہلے کچھ دن وفا ہوا تھا کوئی

پھر مسلسل سزا ہوا تھا کوئی

اب تو ظلمت بدست پھرتے ہیں

کوئی دن تھے ضیا ہوا تھا کوئی

کیا یہی بات کر رہے ہیں آپ

کبھی عہدِ وفا ہوا تھا کوئی

اب جدائی کی راہ پڑتی ہے

بس یہیں تک دعا ہوا تھا کوئی

دھند میں بس گئے تھے سب منظر

بس اچانک خفا ہوا تھا کوئی

برق گرتی تھی آشیانے پر

جیسے اس سے ملا ہوا تھا کوئی

یہ مژہ پر رُکا ہوا آنسو

خواب اس سے جڑا ہوا تھا کوئی

ٹھیک سے تو مجھے بھی یاد نہیں

شام ہی تھی جدا ہوا تھا کوئی


آئلہ طاہر

No comments:

Post a Comment