Saturday, 10 July 2021

موسموں والے نئے دانہ و پانی والے

 موسموں والے نئے دانہ و پانی والے

ہم وہی لوگ،۔ وہی نقل مکانی والے

ہاں بچا لیں گے یہی شہر کو جل جانے سے

کچھ تو باقی ہیں ابھی شہر میں پانی والے

رنگ کیا خوب جمے گا جو کبھی مل بیٹھیں

اور کچھ لوگ طبیعت کی روانی والے

اس لیے اور بھلا دیتا ہوں وعدے اکثر

مجھ کو ملتے ہی نہیں یاد دہانی والے

کوئی سامع جو ملے مجھ کو خبر کر دینا

ہیں مِرے شہر میں سب لوگ کہانی والے


سرفراز نواز

No comments:

Post a Comment