Tuesday, 6 July 2021

دھیان سے جب کبھی گرا دکھ ہے

 دھیان سے جب کبھی گِرا دُکھ ہے

دیر تک مجھ پہ چیختا دکھ ہے

اس لیے ہنس نہیں رہا ہوں میں

سوچتا ہوں کہ دیکھتا دکھ ہے

ایک جانب کو تیرے جانے سے

چاروں جانب سے آرہا دکھ ہے

دِن میں وہ بیٹھنے نہیں دیتا

رات جو مجھ میں جاگتا دکھ ہے

یاد ہے اُس حسیں دریچے کی

چاند ہے، میں ہوں اور تِرا دکھ ہے

موت پہ اس کی رو نہیں پایا

جانتا بھی تھا یہ بڑا دکھ ہے

ایک ہی شخص سے ہیں سب خوشیاں

ایک ہی شخص بانٹتا دکھ ہے

آج پھر زندگی کے ٹھیلے سے

اپنی مرضی کا لے لِیا دکھ ہے

یہ ہیں تیری تمام تر خوشیاں

اور یہ دیکھ، یہ مِرا دکھ ہے

وقت کے قہقہوں سے گھبرا کر

دل کے کونے میں چھپ گیا دکھ ہے

اپنے نام و نسب چھپاؤ نہیں

سب کو چہروں سے جانتا دکھ ہے

میں پیمبر ہوں کیا کوئی، جو تُو

روز مجھ پر اُتارتا دکھ ہے

غم تِرے غم کے گرد گھومتے ہیں

یعنی ہر دکھ کو کھینچتا دکھ ہے

روز گٹھری تمہاری یادوں کی

کھولتا ہوں تو پھیلتا دکھ ہے

جس جگہ روشنی نہیں جاتی

اس جگہ مجھ کو پھینکتا دکھ ہے


تجمل کاظمی

No comments:

Post a Comment