Sunday, 18 July 2021

ایک تصویر جو تشکیل نہیں ہو پائی

 ایک تصویر جو تشکیل نہیں ہو پائی

کینوس پر کبھی تکمیل نہیں ہو پائی

یہ جو اک بھیڑ ہے یہ بھیڑ کی بڑی مدت سے

میری تنہائی میں تحلیل نہیں ہو پائی

تیرگی نے کوئی تعویذ کیا ہے شاید

اس لیے روشنی ترسیل نہیں ہو پائی

میں نے ہر لفظ نبھایا تھا بڑی شدت سے

پر مِری شاعری انجیل نہیں ہو پائی

سارا سامان تھا موجود میری گٹھری میں

ہاں مگر ہاتھ میں قندیل نہیں ہو پائی

پھر کسی رات وہ کُہسار پہ بیٹھا بولا

چاندنی رات کی تمثیل نہیں ہو پائی

کس طرح میں انہیں محفوظ رکھوں گا باسط

خواہشوں کی کوئی زنبیل نہیں ہو پائی


وصاف باسط

No comments:

Post a Comment