Sunday, 18 July 2021

تھا خفا مجھ سے بد گمان بھی تھا

تھا خفا مجھ سے بد گمان بھی تھا

اور وہی مجھ پہ مہربان بھی تھا

جب ستاروں کی زد میں آئی میں

تب لگا سر پہ آسمان بھی تھا

پھول کتنے کھلے تھے دل میں مگر

اک وہیں زخم کا نشان بھی تھا

کس سے کرتی میں دھوپ کا شکوہ

میرا سورج ہی سائبان بھی تھا

ضبط احساس ہم بھی کر لیں گے

اس یقیں پر صبا گمان بھی تھا


رشمی صبا

No comments:

Post a Comment