Saturday, 10 July 2021

بہت پہنچے تو ان کے کاکل و رخسار تک پہنچے

 بہت پہنچے تو ان کے کاکُل و رُخسار تک پہنچے

مگر عاشق نہ اب تک عشق کے معیار تک پہنچے

دبائیں دھڑکنیں، آنکھوں کو جُھٹلایا گیا برسوں

بڑی مُشکل سے وہ انکار سے اقرار تک پہنچے

ابھی تو روشنی الجھی ہے تاریکی کے طوفاں سے

نہ جانے کب تلک اپنے در و دیوار تک پہنچے

چھڑاؤ، گر چھڑا سکتے ہو دامانِ وفا ہم سے

مگر ایسا نہ ہو یہ بات بھی اغیار تک پہنچے

زباں کی آرزو میں ٹھوکریں کھاتے ہوئے نغمے

رباب و چنگ سے تلوار کی جھنکار تک پہنچے


مشتاق نقوی

No comments:

Post a Comment