تیری مرضی ہے، تُو رہے، نہ رہے
تجھ پہ اب اختیار تھوڑی ہے
ہم ہی مرتے ہیں آپ پر صاحب
آپ کو ہم سے پیار تھوڑی ہے
دل میں تم ہو، تمہاری یادیں ہیں
کوئی اُجڑا دیار تھوڑی ہے
کیسے آؤ گے تم مِرے دل میں
دل ہے آخر، بازار تھوڑی ہے
تیری یادوں سے زندگی ہے مِری
تب ہی کہتا ہوں یار! تھوڑی ہے
دائمی عشق مجھ کو لاحق ہے
چار دن کا بخار تھوڑی ہے
کیا خبر، کس سمے اُکھڑ جائے
سانس کا اعتبار تھوڑی ہے
اپنے حصے کا جی رہا ہوں علی
مجھ پہ کوئی اُدھار تھوڑی ہے
علی سرمد
No comments:
Post a Comment