Tuesday, 13 July 2021

ٹھیک ہے سال جو گزرا تھا ستمگر قاتل مگر

 ٹھیک ہے سال جو گزرا

تھا ستمگر قاتل

مگر اس سال بھی

کچھ بھی نہیں بدلا جاناں

تیرا خیال مجھ سے

ایک پل جُدا نہ ہوا

تمہارے لمس کی حِدّت

ابھی تک باقی ہے

تمہاری چاہ جُوں کی توں ہے میرے اِس دل میں

نئے اس سال میں

کچھ بھی تو نہیں بدلا ہے

تمہاری دِید کی حسرت

زرا بھی کم نہ ہوئی

تمہارے عکس سے اب تک

نِگاہ تر ہے میری

تمہیں دیکھے سے

ان آنکھوں کا رِزق چلتا ہے

تمہارے ذکر سے

زبان کبھی غافِل نہ ہوئی

تو کیا ہوا ہے کہ

تاریخ بدل جائے اگر

نہ میرے جذب میں

کوئی کمی ہوئی واقع

نہ مجھ سے یہ برس تیری محبت چھین سکا

میں کیا کہوں کہ مجھے

سال برابر ہیں جو

تمہاری چاہ میں

اور جستجو میں بیت گئے

میں تمہیں سوچ سکتی ہوں اس پر الحمدلِلّٰہ


صائمہ یوسفزئی

No comments:

Post a Comment