ٹھیک ہے سال جو گزرا
تھا ستمگر قاتل
مگر اس سال بھی
کچھ بھی نہیں بدلا جاناں
تیرا خیال مجھ سے
ایک پل جُدا نہ ہوا
تمہارے لمس کی حِدّت
ابھی تک باقی ہے
تمہاری چاہ جُوں کی توں ہے میرے اِس دل میں
نئے اس سال میں
کچھ بھی تو نہیں بدلا ہے
تمہاری دِید کی حسرت
زرا بھی کم نہ ہوئی
تمہارے عکس سے اب تک
نِگاہ تر ہے میری
تمہیں دیکھے سے
ان آنکھوں کا رِزق چلتا ہے
تمہارے ذکر سے
زبان کبھی غافِل نہ ہوئی
تو کیا ہوا ہے کہ
تاریخ بدل جائے اگر
نہ میرے جذب میں
کوئی کمی ہوئی واقع
نہ مجھ سے یہ برس تیری محبت چھین سکا
میں کیا کہوں کہ مجھے
سال برابر ہیں جو
تمہاری چاہ میں
اور جستجو میں بیت گئے
میں تمہیں سوچ سکتی ہوں اس پر الحمدلِلّٰہ
صائمہ یوسفزئی
No comments:
Post a Comment