ہر مشکل کے ہاتھ لگی آسانی ہوں
میں طبقوں کا مارا پاکستانی ہوں
میں نے خوفزدہ ہونٹوں پر دستک دی
خاموشی میں آوازوں کا بانی ہوں
ویسے تم نے اپنی مرضی کرنی ہے
دودھ نہیں ہوں لیکن خالص پانی ہوں
میں اندر کی جانب کھلتا دروازہ
کتنی دیواروں کی نوحہ خوانی ہوں
مجھ کو ایک ڈراؤن نے مار گرایا ہے
میں مردود مَرا ہوں یا قربانی ہوں ؟
جو تیری آنکھوں کی الجھن دیکھ چکے
ان خاموش فقیروں کی حیرانی ہوں
یہ لڑکی اجمیر کی لگتی ہے ساجد
کہتی ہے میں داتا کی دیوانی ہوں
لطیف ساجد
No comments:
Post a Comment