Tuesday, 13 July 2021

ہر مشکل کے ہاتھ لگی آسانی ہوں

 ہر مشکل کے ہاتھ لگی آسانی ہوں

میں طبقوں کا مارا پاکستانی ہوں

میں نے خوفزدہ ہونٹوں پر دستک دی

خاموشی میں آوازوں کا بانی ہوں

ویسے تم نے اپنی مرضی کرنی ہے

دودھ نہیں ہوں لیکن خالص پانی ہوں

میں اندر کی جانب کھلتا دروازہ

کتنی دیواروں کی نوحہ خوانی ہوں

مجھ کو ایک ڈراؤن نے مار گرایا ہے

میں مردود مَرا ہوں یا قربانی ہوں ؟

جو تیری آنکھوں کی الجھن دیکھ چکے

ان خاموش فقیروں کی حیرانی ہوں

یہ لڑکی اجمیر کی لگتی ہے ساجد

کہتی ہے میں داتا کی دیوانی ہوں


لطیف ساجد

No comments:

Post a Comment