تِرے بغیر فقط زندگی نہ کی ہم نے
بدن پہ آرے چلے اور سی نہ کی ہم نے
تمہارے ہجر میں روئے نہیں ہیں خوش رہے ہیں
تمہی بتاؤ، روایت نئی نہ کی ہم نے؟
تمہارے بعد جسے چاہا اس کو دھوکا دیا
تمہارے بعد محبت کبھی نہ کی ہم نے
ہمارے سامنے بجھتی گئی چراغ کی لو
پر ایک دوسرے سے بات بھی نہ کی ہم نے
مقام جس کا جو بنتا تھا، وہ دیا اس کو
اٹھا کے منہ کبھی رائے زنی نہ کی ہم نے
بڑی کتابیں پڑھیں، ڈگریاں بڑی لے لیں
نہ کی تو سوچ ہی اپنی بڑی نہ کی ہم نے
اک آدھ بار یہ خدشہ بھی ہو گیا لاحق
کہ مر نہ جائیں اگر شاعری نہ کی ہم نے
انعام کبیر
No comments:
Post a Comment