گرچہ بہتات میں دیا گیا تھا
حق بھی خیرات میں دیا گیا تھا
پھُول گرنے کا رنج تب بھی تھا
ہاتھ جب ہاتھ میں دیا گیا تھا
میری بے چہرگی کا دُکھ یہ ہے
آئینہ رات میں دیا گیا تھا
بوسہ بوسے کی مد میں تھا ہی نہیں
فرطِ جذبات میں دیا گیا تھا
نوکری دی گئی تھی مرکز میں
گھر مضافات میں دیا گیا تھا
پُرسہ دینا بھی سہل تھوڑی تھا
جیسے حالات میں دیا گیا تھا
اظہر فراغ
No comments:
Post a Comment