Tuesday, 6 July 2021

دیے نگاہوں کے اپنی بجھائے بیٹھا ہوں

 دِیے نگاہوں کے اپنی بجھائے بیٹھا ہوں

تجھے میں کتنے دنوں سے بھلائے بیٹھا ہوں

مِرے لیے ہی دھڑکتا ہے کائنات کا دل

کہاں اکیلا کوئی بوجھ اُٹھائے بیٹھا ہوں

غبارِ راہ اُڑے تو کوئی اُمید جگے

میں کب سے راہ میں پلکیں بچھائے بیٹھا ہوں

ہُنر جو خواب چُرانے کا میں نے سیکھا ہے

یہاں پہ کتنوں کی نیندیں اُڑائے بیٹھا ہوں

کہیں وہ مجھ سے مجھے مانگ لے تو کیا ہو گا

میں اپنے آپ کو کب کا گنوائے بیٹھا ہوں


سرفراز نواز

No comments:

Post a Comment