بچھی ہیں پلکیں مِری ایسے مہرباں کے لیے
پہاڑ کاٹا ہے جس نے مِرے مکاں کے لیے
میں جس کو خواب میں اکثر سلام کرتی ہوں
وہ میرا چاند ہے بس میرے آسماں کے لیے
تمہیں قبول نہیں ہے تو کوئی بات نہیں
مِرا یہ رنگِ تغزل ہے قدرداں کے لیے
میں روز روز اسے چُھو کے دیکھنا چاہوں
یقین بھی تو ضروری ہے کچھ گماں کے لیے
بہت وسیع ہے دنیا مِرے خیالوں کی
لہو نچوڑ رہی ہوں میں داستاں کے لیے
تمہارے نام سے پہچانتے ہیں لوگ مجھے
میں اپنے نام سے گمنام ہوں جہاں کے لیے
سجا کے لاتی ہے نغمہ خلوص کے سجدے
مِری جبین فقط اس کے آستاں کے لیے
نغمہ نور
No comments:
Post a Comment